تعارف و اغراض ومقاصد

ارشادالعلوم الاسلامیہ وازرتِ تعلیم پاکستان سے منظورشدہ انٹرنیشنل تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصدفاصلاتی نظامِ تعلیم کے ذریعے ان لوگوں کو جوبوجہ دینی تعلیم سے استفادہ نہیں کرسکتے یا جن کاسلسلہ تعلیم منقطع ہوگیاتھا،ان تک گھربیٹھے دینی سہولیات مہیاکرنا۔
ارشادالعلوم الاسلامیہ وطن عزیزکے دیہاتوں،قصبوں اوردورافتادہ علاقوں میں مقیم افرادکو جہاں دینی تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابرہیں یا ایسی خواتین جوسماجی پابندیوں کے سبب مدارس/ جامعات میں جانے سے قاصرہیں،یا وہ ملازم پیشہ افرادجوملازمت کی وجہ سے دینی تعلیم سے استفادہ نہیں کرسکتے ان سب کوتعلیمی سہولتیں مہیاکرکے یہ فریضہ بہ طریقِ احسن انجام دے رہاہے۔
یہ ادارہ بہت سی منفردحیثیتوں کےحوالے سے دنیابھرمیں ممتازمقام رکھتاہے،یہ اس ادارہ کی انفرادیت ہے کہ اس کادائرہ کار پاکستان کے علاوہ دیگرممالک تک بھی موجودہے۔بیرون ملک میں یہ ادارہ نہ صرف وہاں مقیم پاکستانیوں کو بلکہ دیگرشہریت کے حامل مرد/خواتین کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتاہے،یہ ملک کاواحدادارہ ہے جہاں عمر،علاقے اورمسلک کی کوئی قیدنہیں ،ملک بھرکے ہرحصے سے ہرعمراورہرمسلک کے افراداس ادارہ سے دینی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔

اغراض ومقاصد
ارشادالعلوم الاسلامیہ ایک ایساادارہ ہے جس کامقصدقرآن وسنت اورعلومِ اسلامیہ کے ایسے مستنداورذی استعدادعلماء تیارکرنا جوان علوم کی روایتی تعلیم وتدریس میں مہارت رکھتے ہوں۔
1۔ دینی اورعصری علوم سے آراستہ ایسی لیڈرشپ تیارکرناجوعصرحاضرکے چیلنجزسے نبردآزماہوسکے اوردین اسلام کی بالادتی اورفروغ کے لئے ہراول دستے کاکرداراداکرسکے۔
2۔ دعوت دین اورترویج دین کے لیے بین الاقوامی زبانیں سکھانا۔
3۔وہ مدارس وجامعات جو “ارشادالعلوم الاسلامیہ” سے ملحق ہوں ،ان میں نصابِ تعلیم،نظامِ تعلیم،انتظام وانصرام اورامتحان میں باقاعدگی ،ایک جہتی اورہم آہنگی پیداکرنا۔
4۔ جدیدعصری تقاضوں کے مطابق تعلیماتِ اسلامیہ کی ترویج واشاعت کو یقینی بنانا۔
5۔ مدارس وجامعات سمیت دینی تعلیم کے بارے معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دورکرنے اوران کاامیج بہتربنانے کے لیے ذرائع ابلاغ پر ویڈیوز،پوسٹس وغیرہ کی شکل میں بھرپورمیڈیاکمپین چلانا۔
6۔ ملحقہ مدارس وجامعات کے معلمین اورمعلمات کے لیے تربیتی نشستوں کااہتمام کرنا۔
7۔ ملحقہ مدارس کی لیڈرشپ،منیجمنٹ ،فائنانس ،ایچ آر اورپروفیشنلزم کو بہتر بنانے کے لیے تربیتی کورسزمنعقدکرنا۔

قواعدوضوابط

ارشادالعلوم الاسلامیہ سے ملحق تمام مدارس وجامعات میں پڑھنے والے طلباء وطالبات پر درج ذیل قوائدوضوابط پرعمل کرناضروری ہوگا۔
1۔ ہر طالب علم کی اہل سنت والجماعت کے مسلک حق سے مکمل وابستگی ضروری ہے،دارالعلوم دیوبندکے فکروعمل سے مکمل مطابقت اور ہم آہنگی رکھے اوراس سے کسی بھی قسم کا انحراف نہ کرے ۔
2۔ نماز باجماعت کی پابندی ہر طالب علم کے لئے انتہائی ضروری ہے، ترک جماعت کے لئے کوئی غیر شرعی عذر مسموع نہ ہوگا۔
3۔اساتذہ سے عقیدت ومحبت اوردل سے ان کی عزت واحترام تحصیل علم اور استفادہ کی اولین شرط ہے، لہٰذا ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ تمام اساتذہ کا انتہائی احترام کریں اور ان سے قلبی وابستگی پیدا کرے، اگرچہ وہ براہ راست اس کے استاد نہ ہوں۔
4۔ ہرطالب علم کے لئے اخلاق واعمال، صورت وسیرت ،وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے، سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاًممنوع ہے، اپنے ساتھیوں یا ملازمین جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانا، بیہودہ مذاق کرنا بدترین عیوب ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔
5۔ ہرطالب علم کو اپنی شکایات اور ضروریات منتظمین اور اساتذہ کے سامنے پیش کرنی چاہئیں، اگر کوئی ساتھی زیادتی کرے تو خود جواب دینے اور بدلہ لینے کی کوشش ہرگز نہ کرے، بلکہ ناظمین اور اساتذہ کرام کے سامنے پیش کرکے چارہ جوئی کرے۔
6۔سبق سے غیر حاضری جرم ہے اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہے، ایسی شدید ضرورت میں جو سبق قضا کئے بغیر نہ پوری کی جاسکے، خود چھٹی کی درخواست دفتر کو دینا ضروری ہے، کسی کے ہاتھ درخواست بھیجنا یا فون پر اطلاع کردیناہرگز کافی نہ ہوگا اسی طرح بیماری کی درخواست اس وقت منظور ہوگی جب سبق میں شرکت ناممکن یا زیادتی ٴمرض کی موجب ہو۔
7۔جامعہ کے مہتمم ،اساتذہ اور منتظمین کو ہر طالب علم سے مکمل بازپرس کا حق ہے ،ان کے حکم کی تعمیل کرناطالب علم کا فرض ہوگا،انہیں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر مواخذہ کا پورا حق حاصل ہوگا ۔
8۔ ہر طالب علم پر لازمی ہے کہ وہ جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ کی طرف سے دی جانے والی تمام ہدایات کی مکمل پابندی کرے ۔